(۹۶۵۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَائٍ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی قِصَّۃِ إِسْلاَمِہِ إِلَی أَنْ قَالَ : فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ ہُوَ وَصَاحِبُہُ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ ہُوَ وَصَاحِبُہُ ثُمَّ صَلَّی فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَأَتَیْتُہُ وَکُنْتُ أَوَّلُ مَنْ حَیَّاہُ بِتَحِیَّۃِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ : وَعَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ : مَتَی کُنْتَ ہَا ہُنَا ۔ قُلْتُ : قَدْ کُنْتَ ہَا ہُنَا مُنْذُ ثَلاَثِینَ لَیْلَۃً وَیَوْمًا قَالَ : فَمَنْ کَانَ یُطْعِمُکَ ؟ ۔ قُلْتُ : مَا کَانَ لِی طَعَامٌ إِلاَّ مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَ عُکَنُ بَطْنِی وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِی سَخْفَۃَ جُوعٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ إِنَّہَا طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَائُ سُقْمٍ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۴۷۳]
(٩٦٥٩) ابوذر (رض) نے اپنے اسلام کا قصہ سنایا ، فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز پڑھی۔ ابوذر فرماتے ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں ہی تھا جس نے سب سے پہلے اسلام والاسلام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وَعَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو یہاں کب سے ہے ؟ میں نے کہا : میں یہاں تیس دن رات سے ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو تجھ کو کھلاتا کون تھا، میں نے کہا : میرا کھانا صرف آب زمزم تھا۔ میں موٹا تازہ ہوگیا حتیٰ کہ میرے پیٹ کا عکن ٹوٹنے لگا اور میں نے ذرا بھی بھوک محسوس نہیں کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کھانے کا کھانا اور بیماری کی شفا ہے۔