hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9686

.

سنن البيهقي

9686
Sunan Al Bayhaqi
(۹۶۸۱)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ النُّعْمَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ الْغَنَوِیِّ حَدَّثَتْنِی سَرَّائُ بِنْتُ نَبْہَانَ وَکَانَتْ رَبَّۃَ بَیْتٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : ہَلْ تَدْرُونَ أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ ۔ قَالَ وَہُوَ الْیَوْمُ الَّذِی یَدْعُونَ یَوْمَ الرُّئُ وسِ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ : ہَذَا أَوْسَطُ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ہَلْ تَدْرُونَ أَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ : ہَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ ۔ ثُمَّ قَالَ : إِنِّی لاَ أَدْرِی لَعَلِّی لاَ أَلْقَاکُمْ بَعْدَ ہَذَا أَلاَ وَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا حَتَّی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ فَیَسْأَلَکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ أَلاَ فَلْیُبْلِغْ أَدْنَاکُمْ أَقْصَاکُمْ أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ ۔ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ لَمْ یَلْبَثْ إِلاَّ قَلِیلاً حَتَّی مَاتَ -ﷺ -۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ قَالَتْ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَوْمَ الرُّئُ وسِ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۱۹۵۳۔ ابن خزیمہ ۲۹۷۳۔ طبرانی کبیر ۷۷۷۔ طبرانی اوسط: ۲۴۳۰۔ ربیعہ مجہول الحال ہے]
(٩٦٨١) سراء بنت نہبان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجۃ الوداع میں یہ کہتے ہوئے سنا : ” کیا تم جانتے ہو یہ کون سا ہے ؟ “ اور یہ وہ دن تھا جسے یوم الرؤس کہا جاتا تھا، لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ ایام تشریق کا افضل دن ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے۔ “ انھوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ مشعر حرام ہے ، پھر فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں شاید میں تمہیں اس کے بعد مل سکوں یا نہ، خبردار ! تمہارے مال، خون اور عزتیں تم پر تمہارے اس شہر میں اس دن کی طرح حرام ہیں حتیٰ کہ تم اپنے رب سے جا ملو تو وہ تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے سوال کرے گا، خبردار ! تمہارے قریب والے دور والے تک یہ بات پہنچا دیں، خبر دار ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے ؟ “ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ ہی مدت بعد وفات پا گئے۔