(۹۶۸۳)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوہِیَارَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْمُرَ الدِّیلِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ فَأَقْبَلَ أُنَاسٌ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ فَسَأَلُوہُ عَنِ الْحَجِّ فَقَالَ : الْحَجُّ یَوْمَ عَرَفَۃَ مَنْ أَدْرَکَ قَبْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ أَیَّامُ مِنًی ثَلاَثَۃُ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ۔ [صحیح۔ ابوداود ۱۹۴۹۔ ترمذی ۸۸۹۔ نسائی ۳۰۱۶]
(٩٦٨٣) عبدالرحمن بن یعمردیلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرفات میں کھڑے دیکھا، آپ کے پاس اہل نجد میں سے کچھ لوگ آئے ، انھوں نے حج کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حج یوم عرفہ ہے جس نے صبح کی نماز سے پہلے اسے پا لیا اس نے حج کو پا لیا، ایامِ منیٰ تین ایام تشریق ہیں، جس نے دو دن میں جلدی کی، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔