(۹۶۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَلِیٍّ الْغَزَّالُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَائَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَذَہَبَ بِہِ لِیُرِیَہُ الْمَنَاسِکَ فَانْفَرَجَ لَہُ ثَبِیرٌ فَدَخَلَ مِنًی فَأَرَاہُ الْجِمَارَ ثُمَّ أَرَاہُ جَمْعًا ثُمَّ أَرَاہُ عَرَفَاتٍ فَنَبَغَ الشَّیْطَانُ لِلنَّبِیِّ -ﷺ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ ثُمَّ نَبَغَ لَہُ فِی الْجَمْرَۃِ الثَّانِیَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ ثُمَّ نَبَغَ لَہُ فِی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ فَذَہَبَ۔
وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ تَفَرَّدَ بِہِ ہَکَذَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ۔
[منکر۔ ابن خزیمہ ۲۹۶۷۔ حاکم ۱/۶۵۰]
(٩٦٩٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جبریل، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو لے کر مناسک دکھانے گئے، ان کے لیے ” ثبیر “ نمودار ہوا، وہ منیٰ میں داخل ہوئے، انھوں نے آپ کو جمرات دکھائے پھر مزدلفہ، پھر عرفات کا میدان دکھایا تو شیطان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جمرہ کے پاس ظاہر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ دوسرے جمرے کے پاس ظاہر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ جمرہ عقبہ کے پاس ظاہر ہوا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا۔