hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9701

.

سنن البيهقي

9701
Sunan Al Bayhaqi
(۹۶۹۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ الْحَسَنِ الْعَمِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَائِشَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَہُوَ ابْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ عَلَی بَعِیرٍ وَزَادَ عِنْدَ قَوْلِہِ : ثُمَّ عَرَضَ لَہُ شَیْطَانٌ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الْوُسْطَی فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی ذَہَبَ ثُمَّ تَلَّہُ لِلْجَبِینِ وَعَلَی إِسْمَاعِیلَ قَمِیصٌ أَبْیَضٌ فَقَالَ : یَا أَبَۃِ إِنَّہُ لَیْسَ لِی ثَوْبٌ تُکَفِّنُنِی فِیہِ فَعَالَجَہُ لِیَخْلَعَہُ فَنُودِیَ مِنْ خَلْفِہِ (أَنْ یَا إِبْرَاہِیمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ) قَالَ فَالْتَفَتَ إِبْرَاہِیمُ فَإِذَا ہُوَ بِکَبْشٍ أَقْرَنَ أَعْیَنَ أَبْیَضَ فَذَبَحَہُ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَقَدْ رَأَیْتُنَا نَتَّبِعُ ذَلِکَ الضَّرْبَ مِنَ الْکِبَاشِ فَلَمَّا ذَہَبَ بِہِ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ إِلَی الْجَمْرَۃِ الْقُصْوَی فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی ذَہَبَ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِنَحْوِہِ۔ قَالَ ابْنُ عَائِشَۃَ : النَّغَفُ دِیدَانٌ تَکُونُ فِی مَنَاخِرِ الشَّاۃِ۔ [صحیح لغیرہ۔ انظر قبلہ وسندہ صالح]
(٩٦٩٦) ابو عاصم غنوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے ، لیکن چند باتوں کا اضافہ کیا ہے، انھوں نے کہا کہ آپ نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور یہاں پر بھی اضافہ کیا کہ پھر جمرہ ٔوسطی کے پاس شیطان ظاہر ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا ، پھر اسے پیشانی کے بل لٹایا اور اسماعیل (علیہ السلام) پر سفید رنگ کی قمیص تھی تو وہ کہنے لگے : اے ابوجان ! میرے پاس ایسا کوئی کپڑا نہیں ہے جس میں آپ مجھے کفن دیں تو وہ اس قمیص کو اتارنے لگے تو پیچھے سے آواز آئی ” اے ابراہیم ! یقیناً آپ نے خواب کو سچ کر دکھایا ہے، یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ “ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے جھانکا تو سفید رنگ کا موٹی آنکھوں اور موٹے سینگوں والا مینڈھا تھا تو انھوں نے اسے ذبح کردیا، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ہم اسی قسم کے مینڈھے تلاش کرتے ہیں، پھر جبریل (علیہ السلام) ان کو جمرہ قصوی کے پاس لے گئے تو شیطان نمودار ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا، پھر باقی حدیث اسی طرح ذکر کی۔