(۹۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ اسْتَفْتَی النَّبِیَّ -ﷺ -فَقَالَ : ہَلْ یَنَامُ أَحَدُنَا وَہُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ : ((نَعَمْ لِیَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِیَنَمْ حَتَّی یَغْتَسِلَ إِذَا شَائَ))۔ قَالَ : وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ صَبَّ عَلَی یَدَیْہِ مَائً ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَہُ بِیَدِہِ الشِّمَالِ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الَّتِی غَسَلَ بِہَا فَرْجَہُ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَنَضَحَ فِی عَیْنَیْہِ وَغَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ ثُمَّ نَامَ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَطْعَمَ شَیْئًا وَہُوَ جُنُبٌ فَعَلَ ذَلِکَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ دُونَ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ۔
وَفِعْلُ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ الرَّاوِی لِلْخَبَرِ قَدْ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ تَفْسِیرًا لِلْوُضُوئِ الْمَذْکُورِ فِی الْخَبَرِ إِلاَّ أَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ رَوَتْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَنَّہُ تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ، وَوُضُوئُ الصَّلاَۃِ یَشْتَمِلُ عَلَی غَسْلِ الرِّجْلَیْنِ مَعَ سَائِرِ الأَعْضَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَالَّذِی رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَقَضَی حَاجَتَہُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ، ثُمَّ نَامَ لَیْسَ یُرِیدُ بِہِ الْوَطْئَ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِہِ الْحَدَثَ، وَسِیَاقُ الْحَدِیثِ یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ ، وَسَیَأْتِی تَمَامُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۰۷۷]
(٩٧٢) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کیا حالتِ جنابت میں ہم میں سے کوئی سو سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ہاں وضو کرے پھر سو جائے جب چاہے ۔ “ جب عبداللہ بن عمر (رض) حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ کو بائیں ہاتھ سے دھوتے، پھر اس ہاتھ کو دھوتے جس سے شرمگاہ دھوئی تھی، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے اور اپنی آنکھوں میں چھینٹے مارتے اور اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں سمیت دھوتے اور اپنے سر کا مسح کرتے، پھر سو جاتے۔ اگر حالت جنابت میں کوئی چیز کھانے کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے۔