(۹۷۲۹)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی الصَّفِیرَا
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ عِنْدِی وَہُوَ قَرِیرُ الْعَیْنِ طَیِّبُ النَّفْسِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ وَہُوَ حَزِینٌ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِی وَأَنْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ : إِنِّی دَخَلْتُ الْکَعْبَۃَ وَوَدِدْتُ أَنِّی لَمْ أَکُنْ فَعَلْتُہُ إِنِّی أَخَافُ أَنْ أَکُونَ قَدْ أَتْعَبْتُ أُمَّتِی بَعْدِی ۔ [ضعیف۔ ترمذی ۸۷۳۔ ابن ماجہ ۳۰۶۴]
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا یَکُونُ فِی حَجَّتِہِ وَحَدِیثُ ابْنِ أَبِی أَوْفَی فِی عُمْرَتِہِ فَلاَ یَکُونُ أَحَدُہُمَا مُخَالِفًا لِلآخَرِ۔
(٩٧٢٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش وخرم تھے اور جب واپس لوٹے تو غمزدہ تھے تو میں نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاتے ہوئے تو اس اس طرح گئے ہیں ؟ فرمانے لگے : میں کعبہ میں داخل ہوا تھا اور اب سوچتا ہوں کہ کاش ایسا نہ کرتا، مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تھکا دیا ہے۔
شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : یہ حج کی بات ہوگی اور ابن ابی اوفی والی حدیث عمرہ کے بارے میں ہے ، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہیں۔