(۹۷۳۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَایِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ : دَخَلَ شَیْبَۃُ بْنُ عُثْمَانَ الْحَجَبِیُّ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ ثِیَابَ الْکَعْبَۃِ تَجْتَمِعُ عَلَیْنَا فَتَکْثُرُ فَنَعْمِدُ إِلَی آبَارٍ فَنَحْتَفِرُہَا فَنُعَمِّقُہَا ثُمَّ نَدْفِنُ ثِیَابَ الْکَعْبَۃِ فِیہَا کَیْلاَ یَلْبَسَہَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : مَا أَحْسَنْتَ وَلَبِئْسَ مَا صَنَعْتَ إِنَّ ثِیَابَ الْکَعْبَۃِ إِذَا نُزِعَتْ مِنْہَا لَمْ یَضُرَّہَا أَنْ یَلْبَسَہَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ وَلَکِنْ بِعْہَا وَاجْعَلْ ثَمَنَہَا فِی الْمَسَاکِینِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَتْ فَکَانَ شَیْبَۃُ بَعْدَ ذَلِکَ یُرْسِلُ بِہَا إِلَی الْیَمَنِ فَتُبَاعُ ہُنَاکَ ثُمَّ یُجْعَلُ ثَمَنُہَا فِی الْمَسَاکِینِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَابْنِ السَّبِیلِ۔ [ضعیف]
(٩٧٣١) شیبہ بن عثمان جعفی سیدہ عائشہ (رض) کے پاس گئے اور کہا : اے ام المومنین ! کعبہ کا غلاف ہمارے پاس جمع ہوتا ہے اور جب وہ زیادہ ہوجائے تو ہم کنویں کھود کر اس میں دفن کردیتے ہیں تاکہ کوئی جنبی یا حائضہ انھیں نہ پہن لے تو سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : تم نے اچھا نہیں کیا اور بہت برا کام کیا ہے ، کعبہ کا غلاف جب اتار لیا جائے تو جنبی وحائضہ کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تو اس کو بیچ دے اور اس کی قیمت ساکنین اور جہاد میں لگا دے، کہتی ہیں کہ اس کے بعد شیبہ اس غلاف کو یمن بھیجتا، اسے وہاں بیچ دیا جاتا پھر اس کی قیمت مساکین، جہاد اور مسافروں پر خرچ کی جاتی۔