(۹۷۵۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی الرِّجَالِ عَنْ أُمِّہِ عَمْرَۃَ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ کَانَت إِذَا حَجَّتْ مَعَہَا نِسَاؤُہَا تَخَافَ أَنْ یَحِضْنَ قَدَّمَتْہُنَّ یَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَ فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِکَ لَمْ تَنْتَظِرْ بِہِنَّ أَنْ یَطْہُرْنَ تَنْفِرُ بِہِنَّ وَہُنَّ حُیَّضٌ۔ [صحیح۔ مالک ۹۲۸]
(٩٧٥٧) سیدہ عائشہ (رض) کے ساتھ جب عورتیں حج کرتیں تو وہ ڈرتیں کہ کہیں یہ حائضہ نہ ہوجائیں تو وہ ان کو یوم نحر کو ہی آگے بھیج دیتیں وہ طواف افاضہ کرلیتیں اگر اس کے بعد حائضہ ہوجاتیں تو وہ ان کے طہر کا انتظار نہ کرتیں اور حائضہ حالت میں ہی انھیں لے جاتیں۔