(۹۷۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی عَلِیٍّ السَّقَّائُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الإِسْفَرَائِینِیَّانِ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: سَأَلَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَۃٍ طَافَتْ بِالْبَیْت یَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ حَاضَتْ فَقَالَ: تَنْفِرُ فَقَالُوا: لاَ نَأْخُذُ بِقَوْلِکَ وَہَذَا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یُخَالِفُکَ قَالَ: إِذَا أَتَیْتُمُ الْمَدِینَۃَ فَسَلُوا فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ سَأَلُوا فَأَخْبَرُوہُمْ بِصَفِیَّۃَ وَکَانَ فِیمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَیْمٍ فَأَخْبَرَتْہُمْ بِصَفِیَّۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَرَوَاہُ خَالِدٌ وَقَتَادَۃُ عَنْ عِکْرِمَۃَ۔[صحیح۔ بخاری ۱۶۷۱]
(٩٧٦١) عکرمہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ نے ابن عباس (رض) سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے یوم نحر کو بیت اللہ کا طواف کرلیا تو بعد میں حائضہ ہوگئی تو انھوں نے فرمایا : وہ چلی جائے تو وہ کہنے لگے : ہم آپ کی بات نہیں مانتے ، یہ زید بن ثابت (رض) آپ کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں تو انھوں نے فرمایا : جب تم مدینہ جاؤ تو وہاں جا کر پوچھنا۔ تو وہ لوگ جب مدینہ گئے تو انھوں نے پوچھا ، انھوں نے ان کو صفیہ والی بات بتائی اور جن لوگوں سے انھوں نے پوچھا تھا، ان میں امِ سلیم بھی تھیں انھوں نے بھی صفیہ والی بات ہی بتائی۔