(۹۷۶۷)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ: أُحِبُّ لَہُ إِذَا وَدَّعَ الْبَیْتَ أَنْ یَقِفَ فِی الْمُلْتَزَمِ وَہُوَ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ فَیَقُولُ : اللَّہُمَّ الْبَیْتُ بَیْتُکَ وَالْعَبْدُ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَّتِکَ حَمَلْتَنِی عَلَی مَا سَخَّرْتَ لِی مِنْ خَلْقِکَ حَتَّی سَیَّرْتَنِی فِی بِلاَدِکَ وَبَلَّغْتَنِی بِنِعْمَتِکَ حَتَّی أَعَنْتَنِی عَلَی قَضَائِ مَنَاسِکِکَ فَإِنْ کُنْتَ رَضِیتَ عَنِّی فَازْدَدْ عَنِّی رِضًا وَإِلاَّ فَمِنَ الآنَ قَبْلَ أَنْ تَنْأَی عَنْ بَیْتِکَ دَارِی فَہَذَا أَوَانُ انْصِرَافِی إِنْ أَذِنْتَ لِی غَیْرَ مُسْتَبْدِلٍ بِکَ وَلاَ بِبَیْتِکَ وَلاَ رَاغِبٍ عَنْکَ وَلاَ عَنْ بَیْتِکَ اللَّہُمَّ فَاصْحَبْنِی بِالْعَافِیۃِ فِی بَدَنِی وَالْعِصْمَۃِ فِی دِینِی وَأَحْسِنْ مُنْقَلَبِی وَارْزُقْنِی طَاعَتَکَ مَا أَبْقَیْتَنِی۔ وَہَذَا مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہُوَ حَسَنٌ۔ [صحیح۔ ذکرہ الشافعی فی الام ۲/ ۳۴۳]
(٩٧٦٧) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ جب وہ بیت اللہ کا الوداعی طواف کرے تو وہ ملتزم میں کھڑا ہو اور یہ دروازے اور رکن کے درمیان ہے اور کہے : اے اللہ ! یہ تیرا گھر ہے اور مجھ پر راضی ہوگیا ہے تو اپنی رضا مندی مزید عطا فرما۔ اگر نہیں تو پھر ابھی سے ہی مجھ پر راضی ہوجا، اس سے پہلے کہ تو مجھے اپنے گھر سے دور کرے۔ اب میرے کوچ کا وقت آپہنچا، اگر تو مجھے اجازت دے، تیرے یا تیرے گھر کے علاوہ کچھ اور نہ چاہنے والاہوں اور نہ ہی تجھ سے یا تیرے گھر سے بےرغبت ہونے والا ہوں، اے اللہ ! تو میرے بدن میں عافیت دے اور دین میں عصمت عطا کر اور میرا لوٹنا اچھا بنا دے اور مجھے اپنی اطاعت کی توفیق دے جب تک تو مجھے زندہ رکھے۔