hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9774

.

سنن البيهقي

9774
Sunan Al Bayhaqi
(۹۷۶۹)وَرَوَاہُ عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ نَہَی أَنْ یُقَالَ لِلْمُسْلِمِ صَرُورَۃٌ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا طَاہِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ فَذَکَرَہُ۔ وَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مُرْسَلاً وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ مِنْ قَوْلِہِ وَنَفَی أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فَاللَّہُ أَعْلَمُ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یَلْطِمُ الرَّجُلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَیَقُولُ : إِنِّی صَرُورَۃٌ فَیُقَالَ لَہُ : دُعُوا الصَّرُورَۃَ لِجَہْلِہِ وَإِنْ رَمَی بِجَعْرِہِ فِی رِجْلِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : لاَ صَرُورَۃَ فِی الإِسْلاَمِ ۔ وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی : یَلْطِمُ وَجْہَ الرَّجُلِ ثُمَّ یَقُولُ : إِنِّی صَرُورَۃٌ فَیُقَالُ : رُدُّوا صَرُورَۃَ وَجْہِہِ وَلَوْ أَلْقَی سَلْحَہُ فِی رِجْلِہِ۔ وَرُوِیَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ تَارَۃً عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَتَارَۃً عَنِ ابْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ وَتَارَۃً عَنِ ابْنِ أَخِی جُبَیْرٍ وَتَارَۃً عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ أُرَاہُ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ صَرُورَۃَ۔ [ضعیف]
(٩٧٦٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ مسلمان کو صرور کہا جائے، اسی کو سفیان بن عیینہ نے عمرو عکرمہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل روایت کیا ہے۔ ابن جریج نے عکرمہ کا قول بنا کر نقل کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ ابن عباس یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے اور ابن عیینہ وغیرہ کی روایت میں عکرمہ سے منقول ہے کہ آدمی جاہلیت میں دوسرے کو تھپڑ مارتا اور کہتا میں صرورہ (بندھا ہوا) ہوں تو اس کو کہا جاتا : اس کی جہالت کے لیے بندھا رہنے دو ، خواہ وہ اپنی لید اپنے پاؤں پر ہی مار لے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں بندھا رہنا نہیں ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آدمی اپنے چہرے پر مارتا۔ پھر کہتا کہ میں بندھا ہوا ہوں تو کہا جاتا : اس کے چہرے کو بندھا رہنے دو خواہ یہ اپنا گوبر اپنے پاؤں پر گرا لے۔
نافع بن جبیر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں کہ عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہوگیا ہے، بندھنا نہیں ہے۔