(۹۷۹۹)أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : وَطِئْتُ امْرَأَتِی قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ قَالَ : عِنْدَکَ شَیْئٌ قَالَ : نَعَمْ إِنِّی مُوسِرٌ قَالَ فَانْحَرْ نَاقَۃً سَمِینَۃً فَأَطْعِمْہَا الْمَسَاکِینَ۔ [حسن لغیرہ]
(٩٧٩٩) عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا : جس نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی تھی، فرمایا : تو کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے ؟ وہ کہنے لگا : میں مالدار ہوں۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : ایک موٹی تازی اونٹنی ذبح کر کے مساکین کو کھلا دو۔