(۹۸۰۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ہُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ : أَنَّہُ سَأَلَ الْحَسَنَ عَنِ امْرَأَۃٍ قَدِمَتْ مُعْتَمِرَۃً فَطَافَتْ بِالْبَیْتِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَوَقَعَ عَلَیْہَا زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ قَالَ لِتُہْدِی ہَدْیًا بَعِیرًا أَوْ بَقَرَۃً۔ قَالَ حُمَیْدٌ وَذَکَرَ بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّہَا لَشَبِقَۃٌ قَالَ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ الْمَرْأَۃَ شَاہِدَۃٌ قَالَ : فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ : لِتُہْدِیَنَّ ہَدْیًا بَعِیرًا أَوْ بَقَرَۃً۔ [صحیح]
(٩٨٠٨) حمیر نے حضرت حسن سے بیان کیا کہ ایک عورت عمرہ کے لیے آئی ، اس نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرلیا، لیکن بال کٹوانے سے پہلے اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کرلی۔ فرمانے لگے : وہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی دے۔
(ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکری بن عبداللہ نے ابن عباس (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا، فرمانے لگے : یہ کثیر الشہوۃ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہوگئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔