(۹۸۲۰)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنِی عَمِّی جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ کَانَ یَقُولُ
(ح)وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ أَدْرَکَ لَیْلَۃَ النَّحْرِ مِنَ الْحَاجِّ فَوَقَفَ بِجِبَالِ عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ وَمَنْ لَمْ یُدْرِکْ عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَہُ الْحَجُّ فَلْیَأْتِ الْبَیْتَ فَلْیَطُفْ بِہِ سَبْعًا وَیَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعًا ثُمَّ لْیَحْلِقْ أَوْ یُقَصِّرْ إِنْ شَائَ وَإِنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیُہُ فَلْیَنْحَرْہُ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ وَسَعْیِہِ فَلْیَحْلِقْ أَوْ یُقَصِّرْ ثُمَّ لْیَرْجِعْ إِلَی أَہْلِہِ فَإِنْ أَدْرَکَہُ الْحَجُّ قَابِلً فَلْیَحُجَّ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْیُہْدِ فِی حَجَّہِ فَإِن لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا فَلْیَصُمْ عَنْہُ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۵۸۱]
(٩٨٢٠) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حاجیوں میں سے جس نی قربانی کی رات کو پا لیا اور طلوع فجر سے پہلے عرفہ کے پہاڑوں میں وقوف کیا، اس نے حج کو پا لیا اور جو طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفہ کو نہ پاسکا اس کا حج رہ گیا۔ وہ بیت اللہ میں آکر سات چکر لگائے اور صفا و مروہ کی سعی کرے پھر سر منڈوائے یا بال کتروائے، پھر اپنے گھر واپس لوٹ جائے۔ اگر آئندہ سال حج کے ایام اس کو پالیں اور اس میں طاقت ہو یعنی زادہ راہ ہو تو حج اور قربانی کرے ۔ اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین دن کے روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر رکھ لے۔