hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9867

.

سنن البيهقي

9867
Sunan Al Bayhaqi
(۹۸۶۲)حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الصَّنْعَانِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّبَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ جَابِرٍ الأَسَدِیِّ قَالَ : کُنْتُ مُحْرِمًا فَرَأَیْتُ ظَبْیًا فَرَمَیْتُہُ فَأَصَبْتُ خُشَّائَ ہُ یَعْنِی أَصْلَ قَرْنِہِ فَمَاتَ فَوَقَعَ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ فَأَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَسْأَلُہُ فَوَجَدْتُ إِلَی جَنْبِہِ رَجُلاً أَبْیَضَ رَقِیقَ الْوَجْہِ وَإِذَا ہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَسَأَلْتُ عُمَرَ فَالْتَفَتَ إِلَیَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ : تَرَی شَاۃً تَکْفِیہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَنِی أَنْ أَذْبَحَ شَاۃً فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِہِ قَالَ صَاحِبٌ لِی : إِنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَمْ یُحْسِنْ أَنْ یُفْتِیَکَ حَتَّی سَأَلَ الرَّجُلَ فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْضَ کَلاَمِہِ فَعَلاَہُ بِالدِّرَّۃِ ضَرْبًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ لِیَضْرِبَنِی فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی لَمْ أَقُلْ شَیْئًا إِنَّمَا ہُوَ قَالَہُ قَالَ فَتَرَکَنِی ثُمَّ قَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّی الْفُتْیَا ثُمَّ قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ : إِنَّ فِی الإِنْسَانِ عَشْرَۃَ أَخْلاَقٍ تِسْعَۃٌ حَسَنَۃٌ وَوَاحِدَۃٌ سَیِّئَۃٌ وَیُفْسِدُہَا ذَلِکَ السَّیِّئُ ثُمَّ قَالَ : وَإِیَّاکَ وَعَثَرَۃَ الشَّبَابِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۳۹]
(٩٨٦٢) عبدالملک بن عمیر حضرت قبیصہ بن جابر اسدی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں محرم تھا ، میں نے ہرن کو دیکھا اور تیر مار دیا تو تیر کی دھار اس کو لگی وہ مرگیا، میرے دل میں اس کی وجہ سے کھٹکا محسوس ہوا۔ میں نے حضرت عمر (رض) کے پاس آکر سوال کیا، ان کے پہلو میں سفید رنگت اور نرم چہرے والا ایک آدمی موجود تھا، وہ عبدالرحمن بن عوف (رض) تھے۔ سوال میں نے حضرت عمر (رض) سے کیا تو عبدالرحمن بن عوف (رض) نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے : ایک بکری کفایت کر جائے گی ؟ اس نے کہا : ہاں تو حضرت عمر (رض) نے مجھے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دے دیا، جب ہم ان کے پاس سے اٹھے تو میرے ساتھی نے مجھے کہا کہ امیرالمومنین مسائل اچھی طرح نہیں بتاسکتے۔ وہ پہلے آدمی سے سوال کرتے ہیں، حضرت عمر (رض) نے ان کی کچھ باتیں سن لیں تو کوڑے سے ان کو مارا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے تاکہ مجھے بھی ماریں، میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ اس نے کہا جو کہا۔ کہتے ہیں : انھوں نے مجھے چھوڑ دیا، پھر کہا : تو حرام کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے اور فتویٰ میں ظلم چاہتا ہے۔ پھر کہا : اے امیرالمومنین ! انسان میں ١٠ عادات ہوتی ہیں : ٩ اچھی ہوتی ہیں اور ایک بری ہوتی ہے اور یہ بری سب اچھی عادت کو بھی خراب کردیتی ہے پھر فرمایا کہ جوانی کی آفات سے بچو۔