(۹۸۶۹)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ الْبُرْجُلاَنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ الْہُذَلِیِّ : أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ یَسْأَلُہُ عَنِ الْمُحْرِمِ یُصِیبُ حِمَارَ وَحْشٍ أَوْ نَعَامَۃٍ أَوْ بَیْضَ نَعَامَۃٍ وَعَنِ الْجَرَادَۃِ یُصِیبُہَا الْمُحْرِمُ فَکَتَبَ إِلَیْہِ : أَمَّا الْمُحْرِمُ یُصِیبُ حِمَارَ وَحْشٍ فَفِیہِ بَدَنَۃٌ وَفِی النَّعَامَۃِ بَدَنَۃٌ وَفِی بَیْضِ النَّعَامَۃِ صِیَامُ یَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْکِینٍ وَأَمَّا الْجَرَادَۃُ فَإِنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ حِمْصَ أَصَابَ جَرَادَۃً وَہُوَ مُحْرِمٌ فَأَتَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مَا أَعْطَیْتَ عَنْہَا قَالَ : أَعْطَیْتُ عَنْہَا دِرْہَمًا فَقَالَ : إِنَّکُمْ مَعْشَرَ أَہْلَ حِمْصٍ کَثِیرَۃٌ دَرَاہِمُکُمْ وَلَتَمْرَۃٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ جَرَادَۃٍ۔ کَذَا فِی رِوَایَۃِ الْمَسْعُودِیِّ۔
وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ فِیہَا یَعْنِی فِی النَّعَامَۃِ بَدَنَۃٌ۔ [ضعیف]
(٩٨٦٩) ابوملیح ہذلی نے ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود (رض) کو خط لکھا کہ وہ محرم جو جنگلی گدھے، شتر مرغ یا شتر مرغ کے انڈے وغیرہ کو نقصان دے تو انھوں نے جواب میں لکھا : اگر محرم جنگل گدھے کو ہلاک کردے تو اس کے بدلے اونٹ کی قربانی، شتر مرغ کے انڈے کے عوض ایک دن کا روزہ یا مسکین کا کھانا۔ رہی ٹڈی تو اہل حمص کے ایک آدمی نے ٹڈی قتل کی جب وہ محرم تھا، اس نے حضرت عمر (رض) سے سوال کیا تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تو نے اس کا عوض کیا ادا کیا ہے ؟ کہنے لگا : صرف ایک درہم ادا کیا ہے، فرمانے لگے : اے اہل حمص ! تم بہت زیادہ دیناروں والے ہو اور کھجور مجھے زیادہ محبوب ہیں ٹڈی کے بدلے میں ۔