(۹۹۱۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَہْزٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَرَجَ وَہُوَ یُرِیدُ مَکَّۃَ حَتَّی إِذَا کَانَ فِی بَعْضِ وَادِی الرَّوْحَائِ وَجَدَ النَّاسُ حِمَارَ وَحْشٍ عَقِیرًا فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : ذَرُوہُ حَتَّی یَأْتِیَ صَاحِبُہُ ۔ فَأَتَی الْبَہْزِیُّ وَکَانَ صَاحِبَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ شَأْنَکُمْ بِہَذَا الْحِمَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَسَمَہُ بَیْنَ الرِّفَاقِ وَہُمْ مُحْرِمُونَ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالأَبْوَائِ فَإِذَا ظَبْیٌ حَاقِفٌ فِی ظِلِّ شَجَرَۃٍ وَفِیہِ سَہْمٌ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ رَجُلاً یُقِیمُ عِنْدَہُ حَتَّی یُجِیزَ النَّاسُ عَنْہُ۔
[صحیح۔ اخرجہ النسائی ۴۳۴۴۔ احمد ۳/ ۴۱۸]
(٩٩١١) عمیر بن سلمہ بہز قبیلہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے ، مکہ کا ارادہ تھا۔ جب وادی روحا میں آئے تو لوگوں نے ایک نیل گائے زخمی دیکھی۔ انھوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ اس کا زخمی کرنے والا آہی جائے گا تو بہزی آگئے، جنہوں نے زخمی کیا تھا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے ساتھیوں میں تقسیم کردیا۔ حالاں کہ وہ محرم تھے، پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ابواء نامی جگہ آگئے۔ اچانک ہرن درخت کے سائے کے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ اس میں تیر بھی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اس کے پاس ٹھہر جائے تاکہ لوگ گزر جائیں۔