hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 992

.

سنن البيهقي

992
Sunan Al Bayhaqi
(۹۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِیُّ وَکَانَ صَدُوقًا وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا نَافِعٌ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِی حَاجَۃٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَلَمَّا أَنْ قَضَی حَاجَتَہُ کَانَ مِنْ حَدِیثِہِ یَوْمَئِذٍ قَالَ : بَیْنَمَا النَّبِیُّ -ﷺ -فِی سِکَّۃٍ مِنْ سِکَکِ الْمَدِینَۃِ وَقَدْ خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ -مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ رَجُلٌ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -ضَرَبَ بِکَفَّیْہِ فَمَسَحَ بِوَجْہِہِ مَسْحَۃً ، ثُمَّ ضَرَبَ بِکَفَّیْہِ الثَّانِیَۃَ فَمَسَحَ ذِرَاعَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ وَقَالَ : ((إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ إِلاَّ أَنِّی لَمْ أَکُنْ عَلَی وُضُوئٍ أَوْ عَلَی طَہَارَۃٍ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ ، وَقَدْ أَنْکَرَ بَعْضُ الْحَفَّاظِ رَفْعَ ہَذَا الْحَدِیثِ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِیِّ ، فَقَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ ، وَالَّذِی رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ نَافِعٍ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ إِنَّمَا ہُوَ التَّیَمُّمُ فَقَطْ ، فَأَمَّا ہَذِہِ الْقَصَّۃُ فَہِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مَشْہُورَۃٌ بِرِوَایَۃِ أَبِی الْجُہَیْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّۃِ وَغَیْرِہِ۔ وَثَابِتٌ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً مَرَّ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَبُولُ فَسَلَّمَ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ ، إِلاَّ أَنَّہُ قَصَّرَ بِرِوَایَتِہِ وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ الْہَادِ عَنْ نَافِعٍ أَتَمُّ مِنْ ذَلِکَ۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۰]
(٩٩٣) نافع نے بیان کیا کہ میں ابن عمر (رض) کے ساتھ ابن عباس (رض) کی طرف کسی کام کے لیے گیا، جب انھوں نے اپنا کام پورا کر لیاتو یہ حدیث بیان کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی کسی گلی میں تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے نکلے، ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلیوں کو (زمین پر) مارا، اپنے چہرے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر دوسری مرتبہ ہتھیلیوں کو مارا اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں تک مسح کیا ، پھر فرمایا : مجھی کسی نے نہیں روکا تھا کہ میں تیرے سلام کا جواب دیتا، مگر میرا وضو نہیں تھا یا فرمایا : میں پاک نہیں تھا۔ (ب) بعض محدثین نے محمد بن ثابت عبدی پر اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ ابن عمر (رض) کا فعل ہے اور دوسرے کہتے ہیں کہ ابن عمر کا فعل صرف تیمم ہے۔ یہ واقعہ ابو جہیم بن حارث صمہ وغیرہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا اور آپ پیشاب کر رہے تھے۔ مگر یہ روایت مختصر ہے۔ یزید بن ہاد کی روایت مکمل ہے۔