(۹۹۶۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الْمَدِینَۃَ؟ قَالَ : نَعَمْ ہِیَ حَرَامٌ حَرَّمَہَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا فَمَنْ یَعْمَلْ بِذَلِکَ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدٍ وَفِی رِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ وَالْبَاقِی سَوَائٌ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ یَزِیدِ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۶]
(٩٩٦٠) عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے ؟ فریا : ہاں یہ حرم ہے، جس کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم قرار دیا ہے، اس کا گھاس نہ کاٹا جائے گا۔ جس نے یہ کام کیا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔