(۹۹۶۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ خَطَبَ النَّاسَ فَذَکَرَ مَکَّۃَ وَأَہْلَہَا وَحُرْمَتَہَا فَنَادَاہُ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ فَقَالَ : مَا لِی أَسْمَعُکَ ذَکَرْتَ مَکَّۃَ وَأَہْلَہَا وَحُرْمَتَہَا وَلَمْ تَذْکُرِ الْمَدِینَۃَ وَأَہْلَہَا وَحُرْمَتَہَا وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا وَذَلِکَ عِنْدَنَا فِی أَدِیمٍ خَوْلاَنِیٍّ إِن شِئْتَ أَقْرَأْتُکَہُ قَالَ فَسَکَتَ مَرْوَانَ ثُمَّ قَالَ قد سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۵۱]
(٩٩٦٣) نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو مکہ، اس کے رہنے والے اور حرم کا تذکرہ کیا۔ رافع بن خدیج نے آواز دی تو اس نے کہا : کیا ہو کہ میں تجھے سن رہا ہوں، تو مکہ، اس کے رہنے والوں اور اس کے حرم کے بیان کر رہا ہے لیکن تم نے مدینہ، اس کے رہنے والوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا حالاں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا تھا اور یہ ہمارے پاس ہرنی کے چمڑے میں لکھا ہوا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں پڑھا دیتا ہوں، کہتے ہیں : مروان خاموش ہوگئے۔ پھر کہا : میں نے بعض باتیں سن رکھی ہیں۔