حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ نَمِرٍ ، سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاجَهَرَ النَّبِيُّ (ﷺ) فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ كَبَّرَ فَرَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَةِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُعَاوِدُ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ. وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَغَيْرُهُ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَبَعَثَ مُنَادِيًا بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَتَقَدَّمَ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، سَمِعَ ابْنَ شِهَاب مِثْلَهُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَقُلْتُ: مَا صَنَعَ أَخُوكَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: أَجَلْ إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ، تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيِ الْجَهْر.
ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن سلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سنا، انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے (اپنی خالہ) عائشہ صدیقہ (رض) سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے گرہن کی نماز میں قرآت بلند آواز سے کی، قرآت سے فارغ ہو کر آپ ﷺ تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو سمع الله لمن حمده، ربنا ولک الحمد کہا پھر دوبارہ قرآت شروع کی۔ غرض گرہن کی دو رکعتوں میں آپ ﷺ نے چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ اور امام اوزاعی (رح) نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ کے عہد میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ نے ایک آدمی سے اعلان کرا دیا کہ نماز ہونے والی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں۔ ولید بن مسلم نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن نمر نے خبر دی اور انہوں نے ابن شہاب سے سنا، اسی حدیث کی طرح زہری (ابن شہاب) نے بیان کیا کہ اس پر میں نے (عروہ سے) پوچھا کہ پھر تمہارے بھائی عبداللہ بن زبیر نے جب مدینہ میں کسوفکی نماز پڑھائی تو کیوں ایسا کیا کہ جس طرح صبح کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ نماز کسوفبھی انہوں نے پڑھائی۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انہوں نے سنت کے خلاف کیا۔ عبدالرحمٰن بن نمر کے ساتھ اس حدیث کو سلیمان بن کثیر اور سفیان بن حسین نے بھی زہری سے روایت کیا، اس میں بھی جہری قرآت کرنے کا بیان ہے۔