حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ، وَمَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک کام کو چھوڑ دیتے اور آپ ﷺ کو اس کا کرنا پسند ہوتا۔ اس خیال سے ترک کردیتے کہ دوسرے صحابہ بھی اس پر (آپ کو دیکھ کر) عمل شروع کردیں اور اس طرح وہ کام ان پر فرض ہوجائے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی لیکن میں پڑھتی ہوں۔