حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ سَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بحینہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی (چار رکعت) نماز کی دو رکعت پڑھانے کے بعد (قعدہ تشہد کے بغیر) کھڑے ہوگئے، پہلا قعدہ نہیں کیا۔ اس لیے لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ جب آپ ﷺ نماز پوری کرچکے تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن آپ ﷺ نے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله اکبرکہا اور سلام ہی سے پہلے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کیے پھر سلام پھیرا۔