حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) مَرَّ بِقَبْرٍ قَدْ دُفِنَ لَيْلًا، فَقَالَ: مَتَى دُفِنَ هَذَا ؟، قَالُوا: الْبَارِحَةَ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي ؟، قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا فِيهِمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ہم سے موسیٰ ابن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک قبر پر ہوا۔ میت کو ابھی رات ہی دفنایا گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ دفن کب کیا گیا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ گذشتہ رات۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں اطلاع کرائی ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اندھیری رات میں دفن کیا گیا ‘ اس لیے ہم نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنالیں۔ ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ میں بھی انہیں میں تھا (نابالغ تھا لیکن) نماز جنازہ میں شرکت کی۔