حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَسْوَدَ رَجُلًا، أَوِ امْرَأَةً، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ، وَلَمْ يَعْلَمْ النَّبِيُّ (ﷺ) بِمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْإِنْسَانُ ؟، قَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي، فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا، وَكَذَا قِصَّتُهُ، قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ، قَالَ فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ہم سے محمد بن فضل نے کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھیں ‘ ان کی وفات ہوگئی لیکن نبی کریم ﷺ کو ان کی وفات کی خبر کسی نے نہیں دی۔ ایک دن آپ ﷺ نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ (ﷺ ) ! ان کا تو انتقال ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی ؟ صحابہ نے عرض کی کہ یہ وجوہ تھیں (اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے ان کو حقیر جان کر قابل توجہ نہیں سمجھا لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ چلو مجھے ان کی قبر بتادو ۔ چناچہ آپ ﷺ اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔