حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَرَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ ؟، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا، قَالَ: فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا، فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا فَقَبَرَهَا، قَالَ ابْنُ مُبَارَكٍ: قَالَ فُلَيْحٌ: أُرَاهُ يَعْنِي: الذَّنْبَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لِيَقْتَرِفُوا أَيْ لِيَكْتَسِبُوا.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے جنازہ میں حاضر تھے۔ نبی کریم ﷺ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا ایسا آدمی بھی کوئی یہاں ہے جو آج رات کو عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ (رض) بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم قبر میں اتر جاؤ۔ انس (رض) نے کہا کہ وہ اتر گئے اور میت کو دفن کیا۔ عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا کہ فلیح نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ لم يقارفکا معنی یہ ہے کہ جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ امام بخاری (رح) نے کہا کہ سورة الانعام میں جو ليقترفواآیا ہے اس کا معنی یہی ہے تاکہ گناہ کریں۔