حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَدِيٌّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَوْمَ عِيدٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، ثُمَّ مَالَ عَلَى النِّسَاءِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُلْبَ وَالْخُرْصَ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر نے ‘ ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ عید کے دن نکلے۔ پس آپ ﷺ نے (عیدگاہ میں) دو رکعت نماز پڑھائی۔ نہ آپ ﷺ نے اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ پھر آپ ﷺ عورتوں کی طرف آئے۔ بلال (رض) آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ انہیں آپ ﷺ نے وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کے لیے حکم فرمایا۔ چناچہ عورتیں کنگن اور بالیاں (بلال (رض) کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔