حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: بُعِثَ إِلَى نُسَيْبَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ بِشَاةٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟، فَقُلْتُ: لَا، إِلَّا مَا أَرْسَلَتْ بِهِ نُسَيْبَةُ مِنْ تِلْكَ الشَّاةِ، فَقَالَ: هَاتِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ (رض) نے کہ نسیبہ نامی ایک انصاری عورت کے ہاں کسی نے ایک بکری بھیجی (یہ نسیبہ نامی انصاری عورت خود ام عطیہ (رض) ہی کا نام ہے) ۔ اس بکری کا گوشت انہوں نے عائشہ (رض) کے یہاں بھی بھیج دیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے ؟ عائشہ (رض) نے کہا کہ اور تو کوئی چیز نہیں البتہ اس بکری کا گوشت جو نسیبہ (رض) نے بھیجا تھا ‘ وہ موجود ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہی لاؤ اب اس کا کھانا درست ہوگیا۔