حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ البيت وَهُوَ يَقْرَأُ: بِ وَالطُّورِ 1 وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ 2 سورة الطور آية 1-2.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ (رض) نے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوگئی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کرلے۔ چناچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں (نماز کے اندر) والطور وکتاب مسطورکی قرآت کر رہے تھے۔