حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: سُئِلَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ الْمُحَصَّبِ، فَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: نَزَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، وَعُمَرُ ، وَابْنُ عُمَرَ، وَعَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يُصَلِّي بِهَا يَعْنِي الْمُحَصَّبَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، أَحْسِبُهُ قَالَ: وَالْمَغْرِبَ، قَالَ خَالِدٌ: لَا أَشُكُّ فِي الْعِشَاءِ وَيَهْجَعُ هَجْعَةًوَيَذْكُرُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ).
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبیداللہ سے محصب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نافع سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے محصب میں قیام فرمایا تھا۔ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) محصب میں ظہر اور عصر پڑھتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے مغرب (پڑھنے کا بھی) ذکر کیا، خالد نے بیان کیا کہ عشاء میں مجھے کوئی شک نہیں۔ اس کے پڑھنے کا ذکر ضرور کیا پھر تھوڑی دیر کے لیے وہاں سو رہتے نبی کریم ﷺ سے بھی ایسا ہی مذکور ہے۔