حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنَّهُ احْتَرَقَ، قَالَ: مَا لَكَ ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ قَالَ: أَنَا، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا.
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے یزید بن ہارون سے سنا، ان سے یحییٰ نے (جو سعید کے صاحبزادے ہیں) کہا، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد نے اور انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر (رض) نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ (رض) سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دوزخ میں جل چکا۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی ؟ اس نے کہا کہ رمضان میں میں نے (روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی، تھوڑی دیر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (کھجور کا) ایک تھیلہ جس کا نام عرق تھا، پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ میں جلنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ حاضر ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لے تو اسے خیرات کر دے۔