حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَخْتَصُّ مِنَ الْأَيَّامِ شَيْئًا ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُطِيقُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے، انہوں نے عائشہ (رض) سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے (روزہ وغیرہ عبادات کے لیے) کچھ دن خاص طور پر مقرر کر رکھے تھے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ بلکہ آپ کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور دوسرا کون ہے جو رسول اللہ ﷺ جتنی طاقت رکھتا ہو ؟