حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، سَاوَمَتْ بَرِيرَةَ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَتْ: إِنَّهُمْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قُلْتُ لِنَافِعٍ: حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا ؟ فَقَالَ: مَا يُدْرِينِي.
ہم سے حسان بن ابی عباد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا، بریرہ (رض) کی (جو باندی تھیں) قیمت لگا رہی تھیں (تاکہ انہیں خرید کر آزاد کردیں) کہ نبی کریم ﷺ نماز کے لیے (مسجد میں) تشریف لے گئے۔ پھر جب آپ ﷺ تشریف لائے تو عائشہ (رض) نے کہا کہ (بریرہ (رض) کے مالکوں نے تو) اپنے لیے ولاء کی شرط کے بغیر انہیں بیچنے سے انکار کردیا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ میں نے نافع سے پوچھا کہ بریرہ (رض) کے شوہر آزاد تھے یا غلام، تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔