حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنَّهُنَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، وَعَنِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، قِيلَ: وَمَا يَزْهُو ؟ قَالَ: يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ.
مجھ سے علی بن ہشیم نے بیان کیا کہ ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں حمید نے خبر دی اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور کھجور کے باغ کو زهوسے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ زهوکسے کہتے ہیں تو آپ ﷺ نے جواب دیا مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے کو کہتے ہیں۔