حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ التَّمْرِ حَتَّى يَزْهُوَ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: مَا زَهْوُهَا، قَالَ: تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم (ﷺ) نے درخت کو زهو. سے پہلے ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ ہم نے پوچھا کہ زهو.کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ پک کے سرخ ہوجائے یا زرد ہوجائے۔ تم ہی بتاؤ کہ اگر اللہ کے حکم سے پھل نہ آسکا تو تم کس چیز کے بدلے میں اپنے بھائی (خریدار) کا مال اپنے لیے حلال کرو گے۔