حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ) أَقْبِيَةٌ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا، فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ (ﷺ) صَوْتَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ (ﷺ) وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ.
ہم سے زیاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن وردان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور ان سے مسور بن مخرمہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ہاں چند ق بائیں آئیں تو مجھ سے میرے باپ مخرمہ (رض) نے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چلو۔ ممکن ہے آپ ﷺ ان میں سے کوئی مجھے بھی عنایت فرمائیں۔ میرے والد (نبی کریم ﷺ کے گھر پہنچ کر) دروازے پر کھڑے ہوگئے اور باتیں کرنے لگے۔ آپ ﷺ نے ان کی آواز پہچان لی اور باہر تشریف لائے، آپ ﷺ کے پاس ایک قباء بھی تھی، آپ ﷺ اس کی خوبیاں بیان کرنے لگے، اور فرمایا میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی، میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی۔