حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ (ﷺ) أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور انہیں عائشہ (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے گھر میں موجود تھے۔ اچانک انہوں نے سنا کہ کوئی صاحب حفصہ (رض) کے گھر میں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ (عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ دیکھتے نہیں، یہ شخص گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ میرا خیال ہے یہ فلاں صاحب ہیں، حفصہ (رض) کے رضاعی چچا ! رضاعت بھی ان تمام چیزوں کو حرام کردیتی ہے جنہیں ولادت حرام کرتی ہے۔