hadith book logo

Sahih Bukhari: Hadith 3191

.

صحيح البخاري

3191
Sahih Bukhari
صحیح
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍأَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ) وَعَقَلْتُ نَاقَتِي بِالْبَابِ فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرُهُ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ وَخَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَنَادَى مُنَادٍ ذَهَبَتْ نَاقَتُكَ يَا ابْنَ الْحُصَيْنِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هِيَ يَقْطَعُ دُونَهَا السَّرَابُ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَرَكْتُهَا. وَرَوَى عِيسَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَقَبَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ (ﷺ) مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتَّى دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے جامع بن شداد نے بیان کیا، ان سے صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین (رض) نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اپنے اونٹ کو میں نے دروازے ہی پر باندھ دیا۔ اس کے بعد بنی تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا اے بنو تمیم ! خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے دو بار کہا کہ جب آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے تو اب مال بھی دیجئیے۔ پھر یمن کے چند لوگ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ خوشخبری قبول کرلو اے یمن والو ! بنو تمیم والوں نے تو نہیں قبول کی۔ وہ بولے : یا رسول اللہ ! خوشخبری ہم نے قبول کی۔ پھر وہ کہنے لگے ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ سے اس (عالم کی پیدائش) کا حال پوچھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ازل سے موجود تھا اور اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ لوح محفوظ میں اس نے ہر چیز کو لکھ لیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ (ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ ابن الحصین ! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ میں اس کے پیچھے دوڑا۔ دیکھا تو وہ سراب کی آڑ میں ہے (میرے اور اس کے بیچ میں سراب حائل ہے یعنی وہ ریتی جو دھوپ میں پانی کی طرح چمکتی ہے) اللہ تعالیٰ کی قسم، میرا دل بہت پچھتایا کہ کاش، میں نے اسے چھوڑ دیا ہوتا (اور آپ (ﷺ) کی حدیث سنی ہوتی) ۔ اور عیسیٰ نے رقبہ سے روایت کیا، انہوں نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی۔ یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہوجائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے (وہاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا) جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔