3- بَابٌ في النُّجُومِ: وَقَالَ قَتَادَةُ وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ سورة الملك آية 5 خَلَقَ هَذِهِ النُّجُومَ لِثَلَاثٍ جَعَلَهَا زِينَةً لِلسَّمَاءِ، وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ، وَعَلَامَاتٍ يُهْتَدَى بِهَا، فَمَنْ تَأَوَّلَ فِيهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ أَخْطَأَ وَأَضَاعَ نَصِيبَهُ وَتَكَلَّفَ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَشِيمًا سورة الكهف آية 45 مُتَغَيِّرًا، وَالْأَبُّ: مَا يَأْكُلُ الْأَنْعَامُ، وَالْأَنَامُ: الْخَلْقُ، بَرْزَخٌ سورة المؤمنون آية 100 حَاجِبٌ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَلْفَافًا سورة النبأ آية 16 مُلْتَفَّةً، وَالْغُلْبُ: الْمُلْتَفَّةُ، فِرَاشًا سورة البقرة آية 22مِهَادًا، كَقَوْلِهِ وَلَكُمْ فِي الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ سورة البقرة آية 36 نَكِدًا سورة الأعراف آية 58 قَلِيلًا.
باب : ستاروں کا بیان قتادہ نے (قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں) ولقد زينا السماء الدنيا بمصابيح کہ ہم نے زینت دی آسمان دنیا کو (تاروں کے) چراغوں سے۔ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو تین فائدوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ انہیں آسمان کی زینت بنایا، شیاطین پر مارنے کے لیے بنایا۔ اور (رات کی اندھیریوں میں) انہیں صحیح راستہ پر چلتے رہنے کے لیے نشانات قرار دیا۔ پس جس شخص نے ان کے سوا دوسری باتیں کہیں، اس نے غلطی کی، اپنا حصہ تباہ کیا (اپنا وقت ضائع کیا یا اپنا ایمان کھو دیا) اور جو بات غیب کی معلوم نہیں ہوسکتی اس کو اس نے معلوم کرنا چاہا۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ سورة الکہف میں لفظ هشيماہے اس کا معنی بدلا ہوا۔ الأبکے معنی مویشیوں کا چارہ۔ یہ لفظ سورة عبس میں ہے اور سورة الرحمن میں لفظ الأنامبمعنی مخلوق ہے اور لفظ برزخبمعنی پردہ ہے۔ اور مجاہد تابعی نے کہا کہ لفظ ألفافابمعنی ملتفةہے۔ اس کے معنی گہرے لپٹے ہوئے۔ الغلببھی بمعنی الملتفةاور لفظ فراشابمعنی مهادہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے سورة البقرہ میں فرمایا ولکم في الأرض مستقر ( مستقر بھی بمعنی مهاد ہے) اور سورة الاعراف میں جو لفظ نكداہے اس کا معنی تھوڑا ہے۔