1- بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَذُرِّيَّتِهِ: صَلْصَالٍ طِينٌ خُلِطَ بِرَمْلٍ فَصَلْصَلَ كَمَا يُصَلْصِلُ الْفَخَّارُ وَيُقَالُ مُنْتِنٌ يُرِيدُونَ بِهِ صَلَّ كَمَا يُقَالُ صَرَّ الْبَابُ وَصَرْصَرَ عِنْدَ الْإِغْلَاقِ مِثْلُ كَبْكَبْتُهُ يَعْنِي كَبَبْتُهُ فَمَرَّتْ بِهِ سورة الأعراف آية 189 اسْتَمَرَّ بِهَا الْحَمْلُ فَأَتَمَّتْهُ أَلَّا تَسْجُدَ سورة الأعراف آية 12 أَنْ تَسْجُدَ.
( سورة الرحمن میں لفظ) صلصالکے معنے ایسے گارے کے ہیں جس میں ریتی ملی ہو اور وہ اس طرح سے بجنے لگے جیسے پکی ہوئی مٹی بجتی ہے۔ بعض نے کہا صلصالکے معنی منتن.یعنی بدبودار کے ہیں۔ اصل میں یہ لفظ صلسے نکلا ہے۔ فا کلمہ مکرر کردیا یا جیسے صرصرسے عرب لوگ کہتے ہیں صر البابیا صر صر البابجب بند کرنے سے دروازے میں سے آواز نکلے جیسے كبكبتهكبسے نکلا ہے۔ سورة الاعراف میں لفظ فمرت بهکا معنی چلتی پھرتی رہی، حمل کی مدت پوری کی، (سورۃ الاعراف میں) لفظ أن لا تسجدکا معنی أن تسجد.کے ہیں۔ یعنی تجھ کو سجدہ کرنے سے کس بات نے روکا۔ لاکا لفظ یہاں زائد ہے۔ باب : آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی پیدائش کے بیان میں