21- بَابُ: {وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلِصًا وَكَانَ رَسُولاً نَبِيًّا وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا} كَلَّمَهُ: وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا سورة مريم آية 53 يُقَالُ لِلْوَاحِدِ وَللْاثْنَيْنِ وَالْجَمِيعِ نَجِيٌّ وَيُقَالُ خَلَصُوا نَجِيًّا اعْتَزَلُوا نَجِيًّا وَالْجَمِيعُ أَنْجِيَةٌ يَتَنَاجَوْنَ.
باب : ( سورة مریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور یاد کرو کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کو کہ وہ چنا ہوا بندہ ، رسول و نبی تھا اور ہم نے طور کی داہنی طرف سے انہیں آواز دی اور سرگوشی کے لیے انہیں نزدیک بلایا اور ان کے لیے اپنی مہربانی سے ہم نے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ واحد ‘ تثنیہ اور جمع سب کے لیے لفظ نجي.بولا جاتا ہے۔ سورة یوسف میں ہے۔ خلصوا نجيا .یعنی اکیلے میں جا کر مشورہ کرنے لگے (اگر نجي. کا لفظ مفرد کے لیے استعمال ہوا ہو تو) اس کی جمع أنجية ہوگی۔ سورة المجادلہ میں لفظ يتناجونبھی اسی سے نکلا ہے۔