حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَوْمَ الْأَحْزَابِ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور انہوں نے جابر (رض) سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا ؟ زبیر (رض) نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا ؟ اس مرتبہ بھی زبیر (رض) نے کہا کہ میں۔ پھر آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا ؟ زبیر (رض) نے اس مرتبہ بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔