حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ: مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: اقْتُلْهُ، قَالَ مَالِكٌ: وَلَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ (ﷺ) فِيمَا نُرَى، وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا.
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو سر مبارک پر خود تھی۔ آپ ﷺ نے اسے اتارا ہی تھا کہ ایک صحابی نے آ کر عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردہ سے چمٹا ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے (وہیں) قتل کر دو ۔ امام مالک (رح) نے کہا جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں آگے اللہ جانے ‘ نبی کریم ﷺ اس دن احرام باندھے ہوئے نہیں تھے۔