hadith book logo

Sahih Bukhari: Hadith 4469

.

صحيح البخاري

4469
Sahih Bukhari
صحیح
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)،‏‏‏‏ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، ‏‏‏‏‏‏وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید (رض) کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا اور فرمایا کہ اگر آج تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر اسی طرح اعتراض کرچکے ہو اور اللہ کی قسم ! اس کے والد (زید رضی اللہ عنہ) امارت کے بہت لائق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ (یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ) بھی ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔