تُقَاةٌ وَتَقِيَّةٌ وَاحِدَةٌ صِرٌّ بَرْدٌ شَفَا حُفْرَةٍ: مِثْلُ شَفَا الرَّكِيَّةِ وَهْوَ حَرْفُهَا، تُبَوِّئُ: تَتَّخِذُ مُعَسْكَرًا الْمُسَوَّمُ الَّذِي لَهُ سِيمَاءٌ بِعَلَامَةٍ أَوْ بِصُوفَةٍ أَوْ بِمَا كَانَ، رِبِّيُّونَ: الْجَمِيعُ وَالْوَاحِدُ رِبِّيٌّ، تَحُسُّونَهُمْ: تَسْتَأْصِلُونَهُمْ قَتْلًا، غُزًّا: وَاحِدُهَا غَازٍ، نَكْتُبُ: سَنَحْفَظُ، نُزُلًا: ثَوَابًا وَيَجُوزُ وَمُنْزَلٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ كَقَوْلِكَ أَنْزَلْتُهُ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَالْخَيْلُ الْمُسَوَّمَةُ الْمُطَهَّمَةُ الْحِسَانُ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى: الرَّاعِيَةُ الْمُسَوَّمَةُ، وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: وَحَصُورًا: لَا يَأْتِي النِّسَاءَ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ: مِنْ فَوْرِهِمْ: مِنْ غَضَبِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ مِنَ النُّطْفَةِ تَخْرُجُ مَيِّتَةً وَيُخْرِجُ مِنْهَا الْحَيَّ الْإِبْكَارُ أَوَّلُ الْفَجْرِ وَالْعَشِيُّ مَيْلُ الشَّمْسِ أُرَاهُ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ.
الفاظ تقاةوتقيةدونوں کا معنی ایک ہے یعنی بچاؤ کرنا۔ صرکا معنی بردیعنی سرد ٹھنڈک۔ شفا حفرةکا معنی گڑھے کا کنارہ، جیسے کچے کنویں کا کنارہ ہوتا ہے۔ تبوئیعنی تو لشکر کے مقامات، پڑاؤ تجویز کرتا تھا، مورچے بنانا مراد ہیں۔ مسومينمسوماس کو کہتے ہیں جس پر کوئی نشانی ہو، مثلاً پشم یا اور کوئی نشانی۔ ربيونجمع ہے اس کا واحد ربيہے یعنی اللہ والا۔ تحسونهمان کو قتل کر کے جڑ پیڑ سے اکھاڑتے ہو۔ غزالفظ غازىکی جمع ہے یعنی جہاد کرنے والا۔ سنکتبکا معنی ہم کو یاد رہے گا۔ نزلاکا معنی ثواب کے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ نزلااسم مفعول کے معنی میں ہو یعنی اللہ کی طرف سے اتارا گیا جیسے کہتے ہیں أنزلتهمیں نے اس کو اتارا۔ مجاہد نے کہا والخيل المسومةکا معنی موٹے موٹے اچھے اچھے گھوڑے اور سعید بن جبیر نے کہا حصورااس شخص کو کہتے ہیں جو عورتوں کی طرف مطلق مائل نہ ہو۔ عکرمہ نے کہا من فورهمکا معنی بدر کے دن غصے اور جوش سے۔ مجاہد نے کہا يخرج الحىیعنی نطفہ بےجان ہوتا ہے اس سے جاندار پیدا ہوتا ہے۔ إبكار صبح سویرے۔ عشيکے معنی سورج ڈھلے سے ڈوبنے تک جو وقت ہوتا ہے اسے عشيکہتے ہیں۔