4- سورة النِّسَاءِ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَسْتَنْكِفُ: يَسْتَكْبِرُ قِوَامًا قِوَامُكُمْ مِنْ مَعَايِشِكُمْ، لَهُنَّ سَبِيلًا: يَعْنِي الرَّجْمَ لِلثَّيِّبِ، وَالْجَلْدَ لِلْبِكْرِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: مَثْنَى وَثُلَاثَ: يَعْنِي اثْنَتَيْنِ، وَثَلَاثًا، وَأَرْبَعًا، وَلَا تُجَاوِزُ الْعَرَبُ رُبَاعَ.
باب : سورة نساء کی تفسیر ابن عباس (رض) نے کہا کہ (قرآن مجید کی آیت) يستنکف، يستکبرکے معنی میں ہے۔ قواما ( قياما ) یعنی جس پر تمہارے گزران کی بنیاد قائم ہے۔ لهن سبيلایعنی شادی شدہ کے لیے رجم اور کنوارے کے لیے کوڑے کی سزا ہے (جب وہ زنا کریں) اور دوسرے لوگوں نے کہا (آیت میں) مثنى وثلاث ورباعسے مراد دو دو تین تین اور چار چار ہیں۔ اہل عرب رباعسے آگے اس وزن سے تجاوز نہیں کرتے۔