حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ (ﷺ) وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ مَاشِيَيْنِ، فَوَجَدَنِي النَّبِيُّ (ﷺ) لَا أَعْقِلُ شَيْئًا، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ رَشَّ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ سورة النساء آية 11.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی، بیان کیا کہ مجھے ابن منکدر نے خبر دی اور ان سے جابر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر صدیق (رض) قبیلہ بنو سلمہ تک پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مجھ پر بےہوشی طاری ہے، اس لیے آپ نے پانی منگوایا اور وضو کر کے اس کا پانی مجھ پر چھڑکا، میں ہوش میں آگیا، پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کا کیا حکم ہے، میں اپنے مال کا کیا کروں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی يوصيكم الله في أولادکم کہ اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں حکم دیتا ہے۔