سورة بَرَاءَةَ: وَلِيجَةً: كُلُّ شَيْءٍ أَدْخَلْتَهُ فِي شَيْءٍ، الشُّقَّةُ: السَّفَرُ الْخَبَالُ الْفَسَادُ وَالْخَبَالُ الْمَوْتُ، وَلَا تَفْتِنِّي: لَا تُوَبِّخْنِي، كَرْهًا: وَكُرْهًا وَاحِدٌ، مُدَّخَلًا: يُدْخَلُونَ فِيهِ، يَجْمَحُونَ: يُسْرِعُونَ، وَالْمُؤْتَفِكَاتِ: ائْتَفَكَتِ انْقَلَبَتْ بِهَا الْأَرْضُ، أَهْوَى: أَلْقَاهُ فِي هُوَّةٍ، عَدْنٍ: خُلْدٍ عَدَنْتُ بِأَرْضٍ، أَيْ أَقَمْتُ وَمِنْهُ مَعْدِنٌ، وَيُقَالُ فِي مَعْدِنِ صِدْقٍ فِي مَنْبَتِ صِدْقٍ، الْخَوَالِفُ: الْخَالِفُ الَّذِي خَلَفَنِي فَقَعَدَ بَعْدِي، وَمِنْهُ يَخْلُفُهُ فِي الْغَابِرِينَ، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ النِّسَاءُ مِنَ الْخَالِفَةِ، وَإِنْ كَانَ جَمْعَ الذُّكُورِ فَإِنَّهُ لَمْ يُوجَدْ عَلَى تَقْدِيرِ جَمْعِهِ، إِلَّا حَرْفَانِ فَارِسٌ وَفَوَارِسُ وَهَالِكٌ وَهَوَالِكُ الْخَيْرَاتُ، وَاحِدُهَا خَيْرَةٌ وَهِيَ الْفَوَاضِلُ، مُرْجَئُونَ مُؤَخَّرُونَ الشَّفَا شَفِيرٌ وَهُوَ حَدُّهُ، وَالْجُرُفُ مَا تَجَرَّفَ مِنَ السُّيُولِ وَالْأَوْدِيَةِ، هَارٍ هَائِرٍ يُقَالُ تَهَوَّرَتِ الْبِئْرُ إِذَا انْهَدَمَتْ وَانْهَارَ مِثْلُهُ لَأَوَّاهٌ شَفَقًا وَفَرَقًا، وَقَالَ الشَّاعِرُ: إِذَا قُمْتُ أَرْحَلُهَا بِلَيْلٍ تَأَوَّهُ آهَةَ الرَّجُلِ الْحَزِينِ
باب : سورة برات کی تفسیر وليجة وہ چیز جو کسی دوسری چیز کے اندر داخل کی جائے (یہاں مراد بھیدی ہے) ۔ الشقةسفر یا دور دراز راستہ۔ خبالکے معنی فساد اور خبالموت کو بھی کہتے ہیں۔ ولا تفتنيیعنی مجھ کو مت جھڑک، مجھ پر خفا مت ہو۔ كَرهااور كُرهادونوں کا معنی ایک ہے یعنی زبردستی ناخوشی سے۔ مدخلاگھس بیٹھنے کا مقام (مثلا سرنگ وغیرہ) ۔ يجمحوندوڑتے جائیں۔ مؤتفکاتیہ ائتفکت انقلبت بها الأرض. سے نکلا ہے یعنی اس کی زمین الٹ دی گئی۔ أهوىیعنی اس کو ایک گڑھے میں دھکیل دیا۔ عدنکا معنی ہمیشگی کے ہیں۔ عرب لوگ بولتے ہیں عدنت بأرضیعنی میں اس سر زمین میں رہ گیا۔ اس سے معدنکا لفظ نکلا ہے۔ (جس کا معنی سونے یا چاندی یا کسی اور دھات کی کان کے ہیں) ۔ معدن صدق. یعنی اس سر زمین میں جہاں سچائی اگتی ہے۔ الخوالف، خالفکی جمع ہے۔ خالفوہ جو مجھ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہا۔ اسی سے ہے یہ حدیث يخلفه في الغابرينیعنی جو لوگ میت کے بعد باقی رہ گئے تو ان میں اس کا قائم مقام بن (یعنی ان کا محافظ اور نگہبان ہو) ۔ اور الخوالف سے عورتیں مراد ہیں اس صورت میں یہ يخلفهکی جمع ہوگی (جیسے فاعلة کی جمع فواعل آتی ہے) ۔ اگر خالفمذکر کی جمع ہو تو یہ شاذہوگی ایسے مذکر کی زبان عرب میں دو ہی جمعهآتی ہیں جیسے فارساور فوارساور هالكاور هوالک۔ الخيرات، خيرةکی جمع ہے۔ یعنی نیکیاں بھلائیاں۔ مرجئونڈھیل میں دیئے گئے۔ الشفاکہتے ہیں شفيرکو یعنی کنارہ۔ الجرفوہ زمین جو ندی نالوں کے بہاؤ سے کھد جاتی ہے۔ هارگرنے والی اسی سے ہے تهورت البئریعنی کنواں گرگیا ۔ لأواهیعنی خدا کے خوف سے اور ڈر سے آہ وزاری کرنے والا جیسے شاعر ( مشقب عبدى ) کہتا ہے۔