10- سورة يُونُسَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاخْتَلَطَ فَنَبَتَ بِالْمَاءِ مِنْ كُلِّ لَوْنٍ. وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ هُوَ الْغَنِيُّ. وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ مُحَمَّدٌ (ﷺ) وَقَالَ مُجَاهِدٌ خَيْرٌ. يُقَالُ: تِلْكَ آيَاتُ يَعْنِي هَذِهِ أَعْلاَمُ الْقُرْآنِ وَمِثْلُهُ. حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ الْمَعْنَى بِكُمْ. دَعْوَاهُمْ دُعَاؤُهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَنَوْا مِنَ الْهَلَكَةِ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَاتَّبَعَهُمْ وَأَتْبَعَهُمْ وَاحِدٌ. عَدْوًا مِنَ الْعُدْوَانِ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ قَوْلُ الإِنْسَانِ لِوَلَدِهِ وَمَالِهِ إِذَا غَضِبَ اللَّهُمَّ لاَ تُبَارِكْ فِيهِ وَالْعَنْهُ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ لأُهْلِكُ مَنْ دُعِيَ عَلَيْهِ وَلأَمَاتَهُ. لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى مِثْلُهَا حُسْنَى وَزِيَادَةٌ مَغْفِرَةٌ. الْكِبْرِيَاءُ الْمُلْكُ.
باب : سورة یونس کی تفسیر اور ابن عباس (رض) نے کہا کہ فاختلطکا معنی یہ ہے کہ پانی برسنے کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کا سبزہ اگا۔ یعنی عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک بیٹا بنا رکھا ہے۔ سبحان اللہ، وہ بےنیاز ہے اور زید بن اسلم نے کہا کہ أن لهم قدم صدقسے محمد ﷺ مراد ہیں۔ اور مجاہد نے بیان کیا کہ اس سے بھلائی مراد ہے۔ تلک آياتمیں تلكجو حاضر کے لیے ہے مراد اس سے غائب ہے۔ یعنی یہ قرآن کی نشانیاں ہیں، اسی طرح اس آیت۔ حتى إذا کنتم في الفلک وجرين بهم میں بهم سے بكم. مراد ہے یعنی غائب سے حاضر مراد ہے۔ دعواهمای دعاؤهمان کی دعا أحيط بهمیعنی ہلاکت و بربادی کے قریب آگئے، جیسے أحاطت به خطيئتهیعنی گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا۔ فاتبعهماور وأتبعهمکے ایک معنی ہیں۔ عدوا،عدوان.سے نکلا ہے۔ آیت يعجل الله للناس الشر استعجالهم بالخير کے متعلق مجاہد نے کہا کہ اس سے مراد غصہ کے وقت آدمی کا اپنی اولاد اور اپنے مال کے متعلق یہ کہنا کہ اے اللہ ! اس میں برکت نہ فرما اور اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے تو (بعض اوقات ان کی یہ دعا نہیں لگتی) کیونکہ ان کی تقدیر کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہوتا ہے اور (بعض اوقات) جس پر بددعا کی جاتی ہے، وہ ہلاک و برباد ہوجاتے ہیں۔ للذين أحسنوا الحسنىمیں مجاہد نے کہا زيادةسے مغفرت اور اللہ کی رضا مندی مراد ہے دوسرے لوگوں نے کہا وزيادةسے اللہ کا دیدار مراد ہے۔ الکبرياءسے سلطنت اور بادشاہی مراد ہے۔